Breaking News

بیڑ کےسینئر آزاد صحافی ایس۔ ایم۔ یوسف کو باوقار ’’ریاستی سطحی آل ٹائم بیسٹ رپورٹر اعزاز‘‘ کا اعلان ۔۔۔* *"پندرہ برسوں سے قلم اور ’’ڈبکی لگاؤ‘‘ تحریک کے ذریعے عوامی مسائل کے لیے جدوجہد کرنے والے بے باک صحافی کو ملے گا اعزاز"*

        بیڑ کےسینئر آزاد صحافی ایس۔ ایم۔ یوسف کو باوقار ’’ریاستی سطحی آل ٹائم بیسٹ رپورٹر اعزاز‘‘ کا اعلان ۔۔۔

"پندرہ برسوں سے قلم اور ’’ڈبکی لگاؤ‘‘ تحریک کے ذریعے عوامی مسائل کے لیے جدوجہد کرنے والے بے باک صحافی کو ملے گا اعزاز"

بیڑ(نمائندہ):اپنے قلم کی طاقت کے ذریعے گزشتہ پندرہ برسوں سے صحافت کے میدان میں مسلسل خدمات انجام دینے والے اور بیڑ شہر کے مقامی مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر اتر کر جدوجہد کرنے والے آزاد صحافی ایس۔ ایم۔ یوسف کو اس سال کا نہایت معزز اور باوقار ’’ریاستی سطحی آل ٹائم بیسٹ رپورٹر، بہترین آزاد صحافی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2026‘‘ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ہفت روزہ ’’یووا لوک متر‘‘ کے پانچویں یومِ تاسیس کے موقع پر ’’یووا لوک متر پریوار‘‘ کی جانب سے اس اعلیٰ ترین اعزاز کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔’’یووا لوک متر‘‘ کی جانب سے صحافت، سماجی خدمات اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرنے والے حقیقی مجاہدین اور باصلاحیت شخصیات کی ہرسال حوصلہ افزائی اور عزت افزائی کی جاتی ہے۔ اس سال کی اعلیٰ سطحی انتخابی کمیٹی نے ایس۔ ایم۔ یوسف کی گزشتہ ڈیڑھ دہائی پر محیط بے خوف صحافت اور منفرد عوامی تحریکوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کے بعد متفقہ طور پر انہیں اس باوقار ایوارڈ کے لیے منتخب کیا ہے۔
ایس۔ ایم۔ یوسف صرف خبریں لکھنے والے صحافی نہیں بلکہ معاشرے کے درد کو زبان دینے والی ایک حساس اور جرات مند شخصیت ہیں۔ گزشتہ پندرہ برسوں سے آزاد صحافی کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے انہوں نے ہمیشہ مظلوم، محروم اور عام شہریوں کے حق میں اپنی قلمی جدوجہد جاری رکھی ہے۔ انتظامیہ کی غفلت اور عوامی مفاد کے کاموں میں تاخیر کے خلاف ان کی آواز ہمیشہ بلند رہی ہے۔
ایس۔ ایم۔ یوسف کا احتجاجی انداز نہایت منفرد اور انتظامیہ کو جھنجھوڑ دینے والا رہا ہے۔ بشیرگنج سے ضلع اسپتال تک جانے والی اہم سڑک گزشتہ 25 تا 30 برسوں سے انتہائی خستہ حالی کا شکار تھی۔ اس سڑک کی تعمیر کے لیے انہوں نے صرف ایک سال کے دوران انتظامیہ کے خلاف ’’طنزیہ احتجاجی تحریک‘‘، ’’بھیک مانگو تحریک‘‘ اور سڑک کے گڑھوں میں اتر کر ’’بے شرم غسل تحریک‘‘ جیسے منفرد احتجاج کیے، جس کے نتیجے میں انتظامیہ کو سڑک کی تعمیر پر مجبور ہونا پڑا۔ آج یہ سڑک بہتر حالت میں موجود ہے تو اس میں ان کی جدوجہد کا نمایاں کردار ہے۔
شہر کی تاریخی شناخت ’’کارنجا ٹاور‘‘ بھی انتہائی خستہ حالت میں پہنچ چکا تھا۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے شیخ یوسف نے اپنے قلم کے ذریعے ’’بیڑمیونسپلٹی، میں کارنجا ٹاور بول رہا ہوں...‘‘ کے عنوان سے ایک نہایت مؤثر اور فکر انگیز مضمون تحریر کیا، جس کا اثر یہ ہوا کہ انتظامیہ کو اس جانب توجہ دینی پڑی اور کارنجا ٹاور کی ازسرِ نو تزئین و آرائش عمل میں آئی۔
اسی طرح خاص باغ سے مومن پورہ کو جوڑنے والے پل کی تعمیر کے مطالبے کے لیے وہ ہر سال باقاعدگی سے دریا میں اتر کر ’’ڈبکی لگاؤ تحریک‘‘ چلاتے ہیں۔ شہر کی تقریباً ہر سماجی تحریک اور شہری حقوق کی جدوجہد میں ان کی فعال شرکت رہتی ہے۔
20 جون کو شاندار تقریبِ تقسیمِ انعامات:
یہ پُروقار اور شاندار تقریبِ تقسیمِ انعامات 20 جون 2026، بروز ہفتہ، شام 6 بجے تاج پیلس، قادرپورہ، بارشی ناکہ، بیڑ میں منعقد ہوگی۔ اس تقریب میں سیاسی، سماجی، تعلیمی اور صحافتی شعبوں کی متعدد ممتاز شخصیات بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گی۔ انہی معزز شخصیات کی موجودگی میں ایس۔ ایم۔ یوسف کی پندرہ سالہ جدوجہد، خدمات اور قربانیوں کا خصوصی اعتراف کیا جائے گا۔
’’ایس۔ ایم۔ یوسف نے گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران بیڑ میں صحافت کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ انہوں نے صرف خبریں جمع کرنے تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ خاص باغ تا مومن پورہ پل کی تعمیر کے لیے ہر سال دریا میں اتر کر ’ڈبکی لگاؤ‘ تحریک چلائی اور عوامی جدوجہد کو اپنی قلمی طاقت سے مضبوط کیا۔ ایسے سچے، بے باک اور ’آل ٹائم بیسٹ‘ صحافی کی عزت افزائی کرتے ہوئے یووا لوک متر پریوار کو بجا طور پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔‘‘
— شیخ طاہر جعفر(مدیر، ہفت روزہ یووا لوک متر، بیڑ)
ایوارڈ کے اعلان کے بعد بیڑضلع کے صحافیوں، مختلف سماجی تنظیموں، سیاسی رہنماؤں، نوجوانوں، شہریوں اور دوست احباب کی جانب سے ایس۔ ایم۔ یوسف کو مبارک بادوں اور نیک تمناؤں کا سلسلہ جاری ہے۔

👇👇👇👇👇

विशेष सुचना

बीड शहराच्या मध्यवर्ती भागात लवकरच लिखाण कार्य सुरू करणार आहे
वेळ - सकाळी ०९:०० ते रात्री ०९:००पर्यंत
*- एस.एम.युसूफ़*
संपर्क - *9021 02 3121*

कोणत्याही टिप्पण्‍या नाहीत