*سرکاری پالی ٹیکنک آنلائن داخلہ فارم میں مسلم طلبہ کے لیے "مذہب: اسلام" کا اختیار شامل کرنے کا مطالبہ۔۔۔* *موجودہ نظام میں "مذہب: مسلم" درج کرنا حقائق کے منافی، فوری اصلاح کی ضرورت: ایس۔ ایم۔ یوسف*
*سرکاری پالی ٹیکنک آنلائن داخلہ فارم میں مسلم طلبہ کے لیے "مذہب: اسلام" کا اختیار شامل کرنے کا مطالبہ۔۔۔*
*موجودہ نظام میں "مذہب: مسلم" درج کرنا حقائق کے منافی، فوری اصلاح کی ضرورت: ایس۔ ایم۔ یوسف*
بیڑ (نمائندہ): سرکاری پالی ٹیکنک کالج کے آن لائن داخلہ نظام میں مسلم طلبہ کے لیے "مذہب: اسلام" کا متبادل اختیار موجود نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزاد صحافی ایس۔ ایم۔ یوسف نے مطالبہ کیا ہے کہ داخلہ فارم اور تمام سرکاری کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں مسلم طلبہ اور شہریوں کے لیے "مذہب: اسلام" کی واضح اندراج کو لازمی بنایا جائے۔
اس سلسلے میں ضلع کلکٹر، بیڑ کے توسط سے وزیر اعلیٰ، دونوں نائب وزرائے اعلیٰ، وزیر داخلہ، وزیر برائے اعلیٰ و تکنیکی تعلیم، وزیر اقلیتی امور اور ڈائریکٹر محکمہ تکنیکی تعلیم کو ایک تفصیلی عرضداشت روانہ کی گئی ہے۔
عرضداشت میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سرکاری پالی ٹیکنک کالج کے سال اول میں داخلے کے لیے طلبہ سے آن لائن رجسٹریشن کے دوران "مذہب: اسلام" کا متبادل اختیار فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ "مذہب: مسلم" اور "ذات: مسلم" جیسے متبادل اختیارات درج ہیں، جو حقیقت اور سرکاری دستاویزات دونوں کے منافی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ "مسلم" کسی مذہب کا نام نہیں بلکہ اسلام پر ایمان رکھنے والے افراد کی شناخت ہے، جبکہ مذہب کا درست نام "اسلام" ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دسویں اور بارہویں جماعت کے ٹرانسفر سرٹیفکیٹس میں بھی واضح طور پر "مذہب: اسلام، ذات: مسلم" درج کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود داخلہ کے آن لائن نظام میں "مذہب: اسلام" کا متبادل اختیار نہ ہونے سے طلبہ اور ان کے والدین کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ موجودہ نظام کی وجہ سے مسلم طلبہ کو مجبوری میں مذہب اور ذات دونوں خانوں میں "مسلم" درج کرنا پڑ رہا ہے، جس کے باعث سرکاری ریکارڈ میں غلط معلومات محفوظ ہو رہی ہیں۔ مستقبل میں ملازمت، اعلیٰ تعلیم یا دیگر سرکاری معاملات کے دوران اس قسم کی غلط اندراج طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔
ایس۔ ایم۔ یوسف نے مطالبہ کیا کہ موجودہ تعلیمی سال کی داخلہ کارروائی مکمل ہونے سے قبل ہی آن لائن نظام میں ضروری اصلاحات کرتے ہوئے "مذہب: اسلام" کا متبادل شامل کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سرکاری و انتظامی سطح پر جہاں کہیں بھی شہریوں کی مذہبی معلومات درج کی جاتی ہیں، وہاں مسلم شہریوں کے لیے "مذہب: اسلام" کی درست اندراج کو یقینی بنایا جائے، اور اگر کمپیوٹرائزڈ نظام میں یہ اختیار موجود نہیں ہے تو اسے فوری طور پر شامل کیا جائے۔
اس عرضداشت کی ایک نقل سرکاری پالی ٹیکنک کالج، بیڑ کے پرنسپل کو بھی پیش کی گئی۔ عرضداشت پر ایس۔ ایم۔ یوسف کے علاوہ ڈاکٹر سنجے تاندلے اور ڈاکٹر گنیش ڈھولے کے دستخط ہیں، جبکہ عرضداشت پیش کرنے کے موقع پر صادق بھائی، اشوک یڑے، مبین شیخ، ڈی۔ جی۔ تاندلے، یونس شیخ اور باجی راؤ ڈھاکنے بھی موجود تھے۔
👇👇👇👇👇
___________________________________________
___________________________________________
*सुचना*
शहराच्या मध्यवर्ती भागात गाळ्यांचे भाडे आणि अनामत रक्कम गाळेधारक अव्वाच्या सव्वा सांगत असल्याने लेखन कार्यालय सुरू करण्यास जमत नाहीये. याकरिता पूर्वीप्रमाणेच चालता-फिरता लेखन कार्य करत आहे. म्हणून लिखाण कार्य करून घ्यायचे असल्यास माझ्या - *9021 02 3121* या भ्रमणध्वनी क्रमांकावरच संपर्क साधावा. - *एस.एम.युसूफ़*





कोणत्याही टिप्पण्या नाहीत
टिप्पणी पोस्ट करा